مسیحی زندگی میں مصائب اور استقامت کا کردار : The role of suffering and perseverance in the Christian life

 مسیحی عقیدہ تسلیم کرتا ہے کہ مصائب زندگی کا ایک حصہ ہے، اور بائبل مقدس ان ایمانداروں کے لیے رہنمائی اور تسلی فراہم کرتی ہے جو درد اور مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ مسیحی زندگی میں مصائب اور استقامت کے کردار پر کچھ آیات کا مطالعہ کریں گے۔


رومیوں4-3:5  کے مطابق

"صرف یہی نہیں، بلکہ مصیبتوں میں بھی فخر کریں، یہ جن کر کہ مصیبت سے صبر پیدا ہوتا ہےاور صبر سے پختگی اور پختگی سے امید پیدا ہوتی ہے۔"

یعقوب 2:1-4 کے  مطابق

" میرے  بھائیو !  جب تم طرح  طرح کی آزمائشوں میں پڑو ،  تو اس کو یہ جان کر کمال  خوشی کی بات سمجھنا کہ تمہارے ایمان کی آزمایش صبر پیدا کرتی ہےاور صبر کو اپنا پورا کام کرنے دو تاکہ تم پورے اور کامل ہو جاؤ اور تم میں کسی چیز کی کمی نہ رہے۔"

یوحنا  33:16  کے مطابق

"میں نے تم سے یہ باتیں اس لیے کہیں ہیں کہ تم مجھ میں اطمینان پاؤ۔ دنیا میں مصیبت اٹھاتے ہو لیکن خاطر جمع رکھو۔ میں دنیا پر غالب آیا ہوں۔"

۲۔کرنتھیوں 16:4-18 کے مطابق

"اس لیے ہم ہمت نہیں ہارتے۔ بلکہ گو ہماری ظاہری انسانیت زائل ہوتی جاتی ہے پھر بھی ہماری باطنی انسانیت روز بروز نئی ہوتی جاتی ہے ۔ کیونکہ ہماری دم بھر کی ہلکی سی مصیبت ہمارے لئے ازحد بھاری اور ابدی جلال پیدا کرتی   جاتی ہے۔جس حال میں کہ ہم دیکھی ہوئی چیزوں پر نہیں بلکہ اندیکھی چیزوں پر نظر کرتے ہیں کیونکہ دیکھی ہوئی چیزیں چند روزہ ہیں بلکہ اندیکھی چیزیں ابدی ہیں  "

رومیوں 8: 28 کے مطابق

"اور ہم  کو معلوم ہے کہ سب چیزیں مل کر  خُدا سے محبت رکھنے والوں کے لئے بھلائی پیدا کرتی ہے یعنی اُن کے لئے  جو خدا کے ارادہ کے موافق بلائے گئے ۔"

۲۔ کرنتھیوں 9:12-10 کے مطابق

"مگر اُس نے مجھ سے کہا کہ میرا فضل تیرے لیے کافی ہے کیونکہ میری قدرت     کمزوری میں پوری ہوتی ہے۔پس میں     بڑی خوشی سے اپنی کمزوری پر فخر کروں گا تاکہ مسیح کی قدرت مجھ پرچھائی رہے۔ اِس لیے میں مسیح کی خاطر کمزوری میں، بے عزتی میں، احتیاج میں،ستائے جانے میں،تنگی میں خوش ہوں کیونکہ جب میں کمزور ہوتا ہوں اُسی وقت زورآور ہوتا ہوں۔"

۱-پطرس 10:5 کے مطابق

"اب خدا جو ہر طرح کے فضل کا چشمہ ہے۔جس نے تم کو مسیح میں اپنے ابدی جلال کے لئے بلایا تمہاری تھوڑی مدت تک دکھ اٹھانے کے بعد آپ ہی تمہیں کامل اور قائم اور مضبوط کرے گا ۔"

۱۔ پطرس 12:4-13  کے مطابق

"اے پیارو ! جو مصیبت کی آگ  تمہاری آزمایش کے لئے تم میں بھڑکائی ہےیہ سمجھ کر اُس سے تعجب نہ کرو کہ یہ ایک انوکھی بات ہم  پر واقع ہوئی ہے۔ بلکہ مسیح کے دکھوں میں جوں جوں شریک ہو خوشی کرو  تاکہ اُس کے جلال   کے ظہور کے وقت بھی نہایت خوش و خرم  ہو۔"

عبرانیوں 1:12- 2کے مطابق

" پس جبکہ گواہوں  کا ایسا  بڑ ا بادل  ہمیں گھیرے ہوئے ہے رو آؤ  ہم بھی ہر ایک بوجھ اور  اُس گناہ کو جو ہمیں  آسانی سے الجھا لیتا ہے  دور کر کے اُس دوڑ میں صبر  سے دوڑیں جو  ہمیں درپیش ہیں۔ ایمان کے بانی اور کامل کرنے والے یُسوع کو تکتے رہیں جس نے اُس خوشی کے لئے جو اس کی نظر کے سامنے تھی شرمندگی کی پرواہ نہ کرکے صلیب کا دکھ سہا اور خُدا کے تخت کی دہنی طرف جا بیٹھا۔"

یعقوب 12:1کے مطابق

"مبارک وہ شخص ہے جو آزمایش کی برداشت کرتا ہے کیونکہ جب وہ مقبول ٹھہرا تو زندگی کا وہ تاج حاصل کرے گا جس کا خداوند  نے اپنے محبت کرنے والوں سے وعدہ کیا ہے ۔" 

بائبل مقدس ہمیں سکھاتی ہے کہ اس زندگی میں مصائب اور آزمائشیں ناگزیر ہیں، لیکن وہ ایمانداروں میں استقامت، کردار اور امید پیدا کر سکتے ہیں۔ ہمیں یسوع پر اپنی نگاہیں جمانے اور مشکل وقت میں ہمیں برقرار رکھنے کے لیے اس کے فضل اور طاقت پر بھروسہ کرنے کے لیے بلایا گیا ہے، یہ جانتے ہوئے کہ خدا ان لوگوں کی بھلائی کے لیے کام کرتا ہے جو اس سے محبت کرتے ہیں۔ بالآخر، ایمان میں ہماری ثابت قدمی کو ابدی جلال سے نوازا جائے گا۔

ایک تبصرہ شائع کریں

1 تبصرے